Tuesday, 29 August 2017

Rohtas Fort


 Asif Aslam at Kheora 4Dec-16



اس جگہ پر واقع ایک ہوٹل میں بیٹھ کہ ہم لوگوں نے دوپہر کا کھانا کھایا تھا،جو کہ بہت ہی یادگار لمحات ہیں،جو میں کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتا۔اس جگہ پر دوبارہ جانے کا کافی  بار پروگرام بنا،لیکن صرف سر اویس احمد کو ہی دوبارہ جانے کا موقع ملا۔سراویس کو یہ جگہ بہت ہی پسند آئی 

Sir Awais Ahmad At Rohtas Fort jehlum


 Me And Rao Iftikhar Sahil At Rohta Fort (Jehlum)
راؤ افتخار کے ساتھ ایک یادگار تصویر،جبکہ بیک گرونڈ میں نظر آنے والا ایک اجنبی شخص نظر آرہا ہے۔








ہنستے ہوئے چہروں کو یاروں کے نم کرنا 

چھوڑ دو ایسے قصے رام رقم کرنا



Excellent Picture Of My Dear Friend
شہزاد ایک اچھا لڑکا تھا پہلے۔ اب ذرا مصروف رہنے لگا گیاہے۔یہ گھوڑا شہزاد کا آپنا ذاتی گھوڑا ہے۔جو دس محرم الحرام کو نہایت ہی عقیدت کے ساتھ سجا کے جلوس میں نکالا جاتا ہے۔



Asif Aslam In Satgarah With my (Sir Awais)
یہ کوہلہ لشاریاں کی ایک یادگار تصویر ہے، جو کسی دوست کے گھر بکرا عید کے دوسرے روز ناشتے پر مدعو تھے ہم۔


My Sweet Mother 


In Fort Rohtas At Darbaar 4-dec-2016



In Jehlum 


In Fort Rohtas


My Sweet Nephew ( Muazz Rafique )


My Sir And Rana Shahzaib At Kheora

My Favourite Actor 


Tonny Jaa 
My Favourite Actor



اویس صاحب کے سسرال ایک یادگار ڈنر کرتے ہوئے



نولکھی کوٹھی


اویس صاحب کے سسرال ایک یاد گار تصویر



گیمبر وزٹ کے بعد عدنان شفیق بلوچ رند صاحب کے گھر ناشتہ کرتے ہوئے

گیمبر نہری کوٹھی


گیمبر

گیمبر 

اویس صاحب کے سسرال ایک ہیپی ڈنر












نولکھی کوٹھی

راو صاحب کے نئے گھر ایک یادگار فوٹو

قلعہ روہتاس دریا کے پل پر ایک گروپ فوٹو




اویس صاحب کے گھر سوپ پیتے ہوئے

فرمان علی ورک (گروم)

فرمان علی ورک کی بارات

اوکے فرائی چکس ایم اے جناح روڈ

راو افتخار صاحب کے پرانے گھر ،انکی پاکستان آمد قلعہ روہتاس ٹوور کے بعد پہلی ملاقات

پہلا وزٹ نولکھی کوٹھی، اور یہ اویس صاحب کا بھی پہلا وزٹ تھا۔



ساہیوال بارات فنگشن (گروم راشد صاحب)



قلعہ بالا حسار

ورسک ڈیم جاتے ہوئے

ورسک ڈیم جاتے ہوئے

کارخانوں مارکیٹ ناشتہ روش (نمکین گوشت)

 خیبر بازار BRT BUS

یادگار تصویر نثار چرسی صاحب سے


یادگار تصویر نثار چرسی صاحب سے

نمک منڈی فوڈ سٹریٹ نثار چرسی تکہ


نمک منڈی فوڈ سٹریٹ نثار چرسی تکہ


نمک منڈی فوڈ سٹریٹ نثار چرسی تکہ


نمک منڈی فوڈ سٹریٹ نثار چرسی تکہ


نمک منڈی فوڈ سٹریٹ نثار چرسی تکہ

میوزیم گور گھٹڑی

گور گھٹڑی (محلہ سیٹھیان)

خیبر بازار کا گیٹ

شاہ رخ کے والد کا آبائی محلہ

شاہ رخ خان کے والد کا آبائی گھر پشاور



یادگار چوک پشاور

بیک سائیڈ پر تاریخ مسجد محبت خان پشاور


اسلامیہ کالج پشاور

پشاور یونیورسٹی

پشاور کا پہلا ناشتہ

جمرود گاوں ۔یہاں کیری ڈبہ والے کا گھر تھا اس نے چائے سے مہمان نوازی کی



یہ برصغیر کا واحد پل ہے جس کے نیچے سے 2 بار گزر کر جانا پڑتا ہے


افغانستان بارڈر


افغانستان بارڈ 


پگڑی چوک



خیبر گیٹ

افغانستان بارڈ جاتے ہوئے


زیر نظر تصویر پنجابی کی بہت بڑی شاعرہ  امرتا پریتم کی ہے جن کا تعلق سکھ مذہب سے تھا اور ان کے آباؤاجداد کا تعلق متحدہ ہندوستان کے وقت گجرانوالہ سے تھا۔
‏امرتا پریتم اپنی آب بیتی”رسیدی ٹکٹ“ میں لکھتی ہیں کہ جب ہندوستان کا بٹوارا ہوا تو لاہور سے بذریعہ ٹرین دہلی گئیں تو انھوں نے راستے میں لوٹ مار دیکھی،قتل و غارت دیکھی،سروں کے بغیر دھڑ دیکھے، جسم کے مختلف اعضاء پڑے دیکھے ۔امرتا پریتم سوچتی ہیں کہ اس پنجاب کی دھرتی پر ایک دھی(بیٹی) روئی تھی تو وارث شاہ نے اس پر پورا قصہ لکھ دیا تھا (یہاں ان کا اشارہ ہیر کی طرف ہوتا ہے جسکا قصہ وارث شاہ نے لکھ تھا)  آج اس دھرتی پر لکھاں دھیاں اجڑ گئی ہیں ان کے دکھ بانٹنے والا کوئی نہیں ہے آج ان کے قصے لکھنے والا وارث شاہ کوئی نہیں ہے
‏”امرتا نے وارث شاہ کو مخاطب کر کے ایک نظم لکھی“


‏اج آکھاں وارث شاہ نوں کتھوں قبراں وچوں بول!
‏تے اج کتابے عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول!
‏اِک روئی سی دھی پنجاب دی توں لِکھ لِکھ مارے وَین
‏اَج لکھاں دھیاں روندیاں تینوں وارث شاہ نوں کہن:
‏اٹھ دردمنداں دیا دردیا! اُٹھ تک اپنا پنجاب
‏اَج بیلے لاشاں وِچھیاں تے لہو دی بھری چناب
‏کسے نے پنجاں پانیاں وچ دتی زہر رلا
‏تے اوہناں پانیاں دھرت نوں دتا پانی لا
‏اس زرخیز زمین دے لُوں لُوں پُھٹیا زہر
‏گِٹھ گِٹھ چڑھیاں لالیاں پُھٹ پُھٹ چڑھیا قہر
‏ویہو وِلسّی واء پھر ون ون وگی جا
‏اوہنے ہر اک وانس دی ونجھلی دتی ناگ بنا
‏پہلا ڈنگ مداریاں منتر گئے گواچ
‏دوجے ڈنگ دی لگ گئی جنے کھنے نوں لاگ
‏لاگاں کِیلے لوک منہہ بس پھر ڈنگ ہی ڈنگ
‏پلوپلی پنجاب دے نیلے پے گئے انگ
‏گلیوں ٹُٹّے گیت پھر تر کلیوں ٹُٹی تند
‏ترنجنوں ٹُٹیاں سہیلیاں چرخڑے گھوکر بند
‏سنے سیج دے بیڑیاں لُڈن دتیاں روڑھ
‏سنے ڈالیاں پِینگھ اج پِپّلاں دتی توڑ
‏جتھے وجدی سی پھوک پیار دی وے اوہ ونجھلی گئی گواچ
‏رانجھے دے سب ویر اج بھل گئے اوہدی جاچ
‏دھرتی تے لہو وسیا قبراں پئیاں چون
‏پریت دیاں شاہزادیاں اج وچ مزاراں رون
‏اج سبھے کیدو بن گئے حسن عشق دے چور
‏اج کتھوں ليائیے لبھ کے وارث شاہ اک ہور
‏آج آکھاں وارث شاہ نوں توں ہی قبراں وچوں بول!
‏تے اج کتابے عشق دا کوئی اگلا ورقا پھول






3 comments:

  1. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  2. Nice...
    Insha Allah next Tour ki b pic es Blog mein add hun g.

    ReplyDelete
  3. اج بروز سوموار 4 دسمبر 2017 کو پورا ایک سال ہوگیا ہے۔بہت یادگار ٹرپ تھا یہ ہمارا۔انشااللہ دوبارہ پھر جائے گے۔

    ReplyDelete

Rohtas Fort

 Asif Aslam at Kheora 4Dec-16 اس جگہ پر واقع ایک ہوٹل میں بیٹھ کہ ہم لوگوں نے دوپہر کا کھانا کھایا تھا،جو کہ بہت ہی یادگار لم...